History Of Pakistan From 1857 To 1947 Notes In Urdu ⇒ ❲TESTED❳

نہرو رپورٹ کے جواب میں قائدِ اعظم نے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے مشہور ۱۴ نکات پیش کیے، جو مستقبل کے کسی بھی آئین کے لیے مسلم لیگ کی بنیاد بنے۔ ۱۰. خطبہ الٰہ آباد (۱۹۳۰ء)

1905ء میں انگریزوں نے انتظامی بنیادوں پر بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اس سے مشرقی بنگال کے مسلمانوں کو فائدہ ہوا، لیکن ہندوؤں نے اس کی شدید مخالفت کی۔ اسی دوران 1906ء میں مسلمانوں کا ایک وفد سر آغا خان کی قیادت میں وائسرائے سے ملا (شملہ وفد) اور مسلمانوں کے لیے "جداگانہ انتخاب" کا مطالبہ کیا۔ 4. مسلم لیگ کا قیام (1906ء)

کیا آپ کو اس مضمون کے اہم سوالات اور جوابات () کی شکل میں نوٹس درکار ہیں؟ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے برصغیر کی تقسیم کا حتمی منصوبہ پیش کیا۔

اس تاریک دور میں مسلمانوں کے لیے اُمید کی کرن بن کر ابھرے۔ انہوں نے جنگِ آزادی کے نتائج کا تجزیہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مسلمانوں کی ترقی کا واحد راستہ جدید تعلیم ہے، بغیر اپنے مذہب سے روگردانی کیے۔ علی گڑھ تحریک کے تحت انہوں نے 1875 میں محمدن اینگلو اورینٹل کالج قائم کیا، جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بنا۔ یہ تحریک مسلمانوں میں سیاسی اور علمی شعور بیدار کرنے میں سنگ میل ثابت ہوئی۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

قائد اعظم نے 29 دسمبر 1930 کو مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں تاریخی خطبہ دیا۔ انہوں نے کہا:

1857 میں ناکامی کے بعد انگریزوں نے ساری ذمہ داری مسلمانوں پر ڈال دی۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

لندن میں برصغیر کے آئینی مسائل حل کرنے کے لیے تین کانفرنسیں ہوئیں، جو کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئیں۔

پنڈت موتی لال نہرو کی سربراہی میں ایک آئین تیار کیا گیا جس میں مسلمانوں کے جداگانہ انتخاب کے حق کو مسترد کر دیا گیا اور مرکز میں مسلم نمائندگی کم کرنے کی سفارش کی گئی۔

1859ء میں مراد آباد اور 1863ء میں غازی پور میں مدارس قائم کیے۔

سر آغا خان کی قیادت میں ۳۵ مسلم رہنماؤں کا ایک وفد وائسرائے لارڈ منٹو سے شملہ میں ملا۔